9 February, 2012 21:11
ISLAMABAD TONIGHT
WITH NADEEM MALIK
09-02-2012
پاکستان کی ایگزیکٹو پارلیمنٹ اور عدلیہ کے فیصلوں پر عمل نہیں کر رہی۔ خرم دستگیر کی اسلام آباد ٹونائٹ میں گفتگو
پارلیمنٹ قرارداد پاس کرتی ہے لیکن ایگزیکٹو اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔ خرم دستگیر
عدالت نے ہر مسئلے پر طے شدہ طریقے کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ بابر ستار
عدالت نے لوگوں کی رائے کے مطابق فیصلے نہیں کرنے ہوتے۔ بابر ستار
مجھے خبر ملی ہے کہ بیسویں ترمیم پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ نئیر بخاری
اب بیسویں ترمیم کا معاملہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ نئیر بخاری
اس وقت سارے کا سارا بوجھ سپریم کورٹ کے اوپر ہے۔ انصار عباسی
پارلیمنٹ اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ممبران کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اٹھارویں ترمیم میں کیا تھا۔ انصار عباسی
لگتا ہے اعتزاز آجکل بابر اعوان سے سبق لے رہے ہیں ان کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔ انصار عباسی
اعتزاز کہتے ہیں کہ خط بھی نہیں لکھنا اور توہین عدالت بھی نہیں ہوئی۔ انصار عباسی
اعتزاز کا کہنا ہے کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ بابر ستار
اعتزاز کی یہ دلیل بہت خطرناک ہے اس طرح تو عدالت کے کسی فیصلے پر عمل نہیں ہو گا۔ بابر ستار
مقدمے پر نطر ثانی کی درخواست خارج ہو جانے کے بعد اب مزید کوئی گنجائیش باقی نہیں ہے۔ خرم دستگیر
عوام کو اب اپنے نمائندوں سے یہ بھی پوچھنا چاہئیے ک وہ قانون پر عمل کر رہے ہیں یا کہ نہیں۔ خرم دستگیر
عدالت کو جس وقت فیصلے کرنے کی ضرورت ہو اس وقت کرنے چاہییں۔ انصار عباسی
امریکہ میں بلوچستان پر کی گئی بات کو امریکی حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔معید یوسف
پاکستان اس وقت نشانے پر ہے اور اس کے بارے میں واشنگٹن میں منفی تاثر پایا جاتا ہے۔ معید یوسف
نیٹو سپلائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن کنٹینرز گزرنے کی کوئی قیمت مقرر کر دی جائے گی۔ معید یوسف
ہم نے بلوچستان کے مسئلے پر زوردار آوز اٹھائی لیکن فرق نہیں پڑا۔ خرم دستگیر
بلوچستان کے لوگ کہتے ہیں کہ وہاں ایجنسیوں کے لوگ ملوث ہیں۔ خرم دستگیر
اپنے حقوق کی بات کرنا ملک کے ساتھ غداری نہیں ہے۔ خرم دستگیر
بلوچستان میں ڈیڑھ ہزار سیٹلرز کو بھی مارا گیا ہے۔ خرم دستگیر
پاکستان کی حکومت عوام کے بنیادی حقوق کی بھی حفاظت نہیں کر رہی۔ بابر ستار
بلوچستان میں ایجنسیاں لوگوں کو اور لوگ ایجنسیوں کے لوگوں کو مار رہے ہیں۔ بابر ستار
امریکہ کو اس لئیے بلوچستان کے مسئلے پر بات کرنے کی جرات ہوئی کیونکہ ہم اس کے غلام ہیں۔ انصار عباسی
ہمارے لیڈروں میں جرات نہیں کہ امریکہ سے احتجاج کریں۔ انصار عباسی
دنیا کا سب سے بڑا سٹیٹ سپانسرڈ دہشت گرد ملک امریکہ ہے۔ انصار عباسی
ہمارے جو لوگ دہشت گردی کی طرف چلے گئے ہیں ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انصار عباسی
ہمیں اپنے معاملات فوج کے حوالے نہیں کرنے چاہییں اس سے مسائل الجھ جاتے ہیں۔ انصار عباسی
بلوچستان میں سکیورٹی ایجنسیوں کا کردار ختم ہونا چاہئیے۔ خرم دستگیر
بلوچستان کے لوگوں کے لئیے ایمنسٹی کا اعلان کر دینا چاہئیے۔ خرم دستگیر
بلوچستان کے قوم پرست لیڈر وہاں کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ خرد دستگیر
ہم نے نیشنل سکیورٹی کے معاملات فوج کے حوالے کر دئیے ہوئے ہیں۔ بابر ستار
کون غدار ہے کون نہیں ہے یہ دیکھنا فوج کا کام نہیں ہے۔ بابر ستار
بلوچستان اور قبائلی عوام دونوں کے لئیے ایمنسٹی کا اعلان کر دینا چاہئیے۔ انصار عباسی
Posted on 2012, in CURRENT AFFAIRS. Bookmark the permalink. Leave a Comment.


