13 February, 2012 21:08
ISLAMABAD TONIGHT
WITH NADEEM MALIK
13-02-2012
وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ توہین عدالت کے کیس کا دفاع کریں گے۔یسین آزاد کی اسلام آباد ٹعنائٹ میں گفتگو
وزیراعظم خط لکھ دیتے تو توہین عدالت کا کیس ختم ہو جاتا۔ یسین آزاد
وزیراعظم کے نہ ماننے کی وجہ سے عدالت کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ یسین آزاد
وزیراعظم کو فرد جرم لگ جانے کے بعد استعفی دے دینا چاہئیے۔ اکرم شیخ
وزیراعظم نے پوری پاکستانی قوم کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اکرم شیخ
زرداری اور فردوس عاشق اعوان این آر او کے مقدمے کو بینظیر کی قبر کا ٹرائیل قرار دے رہے ہیں۔ اکرم شیخ
سپریم کورٹ کو مقدے کی زیادہ لمبی تاریخ نہیں دینی چاہئیے تھی۔ ایس ایم ظفر
ہمارے علاقعے کے بارے میں اہم فیصلے ہونے والے ہیں اور وزیراعظم مقدمے میں مصروف رہیں گے۔ ایس ایم طفر
سپریم کورٹ میں اور مقدمات بھی زیر سماعت ہیں تاریخ زیادہ لمبی نہیں ہے۔ یسین آزاد
اخلاقی طور پر وزیراعظم کو حکومت سے الگ ہو جانا چاہئیے لیکن قانونی طور پر نہیں۔ یسین آزاد
حکومت کو عدالت کے ساتھ سیاست نہیں کرنی چاہئیے سیاست عوام کے مسئل حل کرنے کے لئیے کرنی چاہئیے۔ اکرم شیخ
حکومت کے وکیل کمال اظفر نے خود عدالت کو کہا تھا کہ وہ این آر او کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتے اور مقدمات دوبارہ کھول سکتی ہے۔اکرم شیخ
سپریم کورٹ نے اب تک نہایت کمل ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ اکرم شیخ
سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر عل نہیں کروا سکی ہمیں یہ بات کہنی چاہئیے۔ یسین آزاد
حکومت شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا چاہتی ہے۔ اکرم شیخ
اس وقت پورے ملک میں کہیں بھی ججوں کی تعداد پوری نہیں ہے۔ یسین آزاد
ایگزیکٹو کو چاہئیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرے۔ یسین آزاد
حکومت جان بوجھ کر سپریم کو بے توقیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکرم شیخ
Posted on 2012, in CURRENT AFFAIRS. Bookmark the permalink. Leave a Comment.


