22 February, 2012 21:01
ISLAMABAD TONIGHT
WITH NADEEM MALIK
22-02-2012
مجھے امید ہے کہ میمو کیس پر حقائق سامنے آنے کے بعد کوئی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ احسن اقبال کی اسلام آباد ٹونائٹ میں گفتگو
ہم میمو کیس میں سپریم کورٹ میں کسی کے خلاف نہیں بلکہ حقائق کا پتہ لگانے کے لئیے گئے تھے۔ احسن اقبال
پاکستان میں سکیورٹی معاملات کی تحقیقات کا نتیجہ کبھی سامنے نہیں آتا۔ احسن اقبال
مشرقی پاکستان اور کارگل واقعات کی تحقیقاتی رپورٹس آج تک سامنے نہیں آ سکیں۔ احسن اقبال
میمو کے معاملہ کی تحقیقات چیف ایگزیکٹو کو خود کرنی چاہئیے تھی۔ جسٹس طارق محمود
میمو کیس عدالت میں گیا تو منصور اعجاز اور جیمز جونز گواہی دینے نہیں آیں گے۔ جسٹس طارق محمود
اعجاز منصور کے بیان کے بعد پتہ چلے گا کہ میمو کیس کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ ایس ایم طفر
بیان اور جرح ہونے کے بعد کیس کی اصل شکل سامنے آتی ہے۔ ایس ایم طفر
سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے کہ میمو کیس کا پاکستان کی سکیورٹی سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ ایس ایم طفر
توہین عدالت کیس میں وزیراعظم شہید ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو پھر سپریم کورٹ اپنا فیصلہ دے گی۔ ایس ایم طفر
پیپلز پارٹی اب شہادت کا کھیل کر لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتی۔ احسن اقبال
پیپلز پارٹی والے بڑی کیلکیولیٹڈ گیم کھیل رہے ہیں۔ جسٹس طارق محمود
پاکستان کے لوگ وزیراعظم کو شہید سمجھ کر پھر کندھوں پر اٹھایں گے۔ جسٹس طارق محمود
پیپلز پارٹی کے پاس لوگوں کے سامنے جا کر اپنی چار سالہ کارکردگی کےبارے میں کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ جسٹس طارق محمود
لوگ سپریم کورٹ پر امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ حکومت کو نکال باہر کرے گی۔ جسٹس طارق محمود
ٹیلی وژن ٹالک شوز نے لوگوں میں بڑی بیداری پیدا کر دی ہے۔ احسن اقبال
میں سندھ کا دورہ کر کے آیا ہوں وہاں سوچ میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔احسن اقبال
آئیندہ الیکش کے نتیجہ میں مجھے ملک میں کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ احسن اقبال
مسلم لیگ ن کا نقطہ نظر بالکل واضع ہے ہم سول سپرمیسی چاہتے ہیں۔ احسن اقبال
میڈیا کو سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو بلا کر پوچھنا چاہئیے کہ وہ ملکی مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ جسٹس طارق محمود
انیس سو ستانوے میں بھی ہم نے پیپلز پارٹی کی تباہ کی ہوئی ملکی معیشت کو دو تین سال میں ٹھیک کر دیا تھا۔ احسن اقبال
Posted on 2012, in CURRENT AFFAIRS. Bookmark the permalink. Leave a Comment.


