31 October, 2012 21:14


ISLAMABAD TONIGHT

WITH NADEEM MALIK

31-OCT-2012

سب لوگوں کو سننے کے بعد سپریم کورٹ نے بلوچستان پر جو فیصلہ دیا ہے اس سے حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ یار محمد رند کی اسلام آباد ٹونائٹ میں گفتگو

بلوچستان کے مسئلے کی سب سے بڑی وجہ وہاں کی حکومت اور وزیراعلی ہے۔ یار محمد رند

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلی بلوچستان کس حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ یار محمد رند

سپریم کورٹ کے فیصلے سے بلوچستان کے لوگوں کو اچھا پیغام ملا ہے کہ تمام ادارے ان کے بارے میں متفکر ہیں۔ ایس ایم ظفر

بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں اور ان کا حل بھی سیاسی لوگوں کے پاس ہے۔ ایس ایم ظفر

حکومت نے اب تک بلوچستان کے مسائل کا حل سرداروں کے زریعے کرنے کی کوشش کی ہے جو عام آدمی تک نہیں پہنچی۔ ایس ایم ظفر

سپریم کورٹ کے بلوچستان پر فیصلے کے پیچھے ہماری جدوجہد بھی موجود ہے۔ میر حاصل بزنجو

میں خضدار کا رہنے والا ہوں وہاں اب تک سینتالیس لوگوں کو مارا جا چکا ہے۔ میر حاصل بزنجو

خضدار کے تمام ادارے، پریس کلب اور ہسپتال بند پڑے ہیں۔ میر حاصل بزنجو

بلوچستان میں لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں ایک گروپ پاکستان بچانے کا نعرہ لگاتا ہے اور ایک توڑنے کا۔ میر حاصل بزنجو

میرے علاقعے نصیرآباد میں پانچ لاکھ سیلاب زدگان سڑکوں پر بیٹھے ہیں ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ یار محمد رند

بلوچستان کے سلاب سے متاثرین گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ مر بھی چکے ہیں۔ یار محمد رند

وزیراعلی بلوچستان نے اپنے استعمال کے لئیے ایک ارب ستر کروڑ روپے کا جہاز خریدا ہے۔ یار محمد رند

پاکستان کا میڈیا اسلام آباد پنجاب اور سندھ میں تو آزاد ہے لیکن بلوچستان میں نہیں ہے۔ یار محمد رند

میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تمام ملک بلوچستان کو لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ ایس ایم ظفر

اٹھارویں ترمیم میں بلوچستان کو ایسی خصوصی مراعات دی گئی ہیں جو کسی اور صوبے کو نہیں دی گئیں۔ ایس ایم طفر

بلوچستان میں دو قومیتیں بلوچ اور پختون رہتے ہیں اور پختون علاقعوں میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہے۔ ایس ایم ظفر

بلوچستان میں بہت سے لوگوں کو وہاں کے پرائیویٹ لشکر بھی مار رہے ہیں۔ ایس ایم ظفر

بلوچستان کے سردار وہاں پنجابیوں کا قتل عام کرنے والوں کی کھل کر مزمت نہیں کرتے ہیں۔ ایس ایم ظفر

ہم بلوچستان کے پرائیویٹ لشکروں کی مزمت نہیں کر سکتے کریں گے تو مار دئیے جایں گے۔ میر حاصل بزنجو

بلوچستان میں پختونوں کی آبادی بلوچوں سے بڑھانے کے لئیے وہاں پچیس لاکھ افغان مہاجرین کو مستقل آباد کر دیا گیا ہے۔ یار محمد رند

بلوچستان میں ایف سی اپنی مرضی سے موجود نہیں ہے بلکہ وہاں کی حکومت کو اسے بلانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ایس ایم ظفر

ایف سی والے بلوچستان میں اہم تنصیبات کی حفاظت کر رہے ہیں جن کے بغیر صوبہ اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ایس ایم ظفر

کچھ لوگ ایف سی کو بلوچستان سے نکلوانا چاہتے ہیں تا کہ وہ کھل کر کھیل سکیں۔ ایس ایم طفر

میرے خیال میں موجودہ حکومت بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں نکال سکتی۔ میر حاصل بزنجو

بلوچستان کے مسئلے کا حل وہاں فوری طور پر الیکشن کروا دینے میں ہے۔ یار محمد رند

بلوچستان میں الیکشن پہلے کی طرح نہیں بلکہ آزادانہ ہوں ورنہ خطرناک نتائج نکلیں گے۔ یار محمد رند

Advertisements

31 October, 2012 10:23


Islamabad Tonight - 30th October 2012 Watch Now Islamabad tonight on Aaj news – Balochistan Government – 30th October 2012
http://www.awaztoday.co/News-Talk-Shows/28995/Islamabad-Tonight-30th-October-2012.aspx
http://www.zemtv.com/2012/10/30/islamabad-tonight-on-aaj-news-balochistan-government-30th-october-2012/
http://www.friendskorner.com/forum/f247/video-islamabad-tonight-30th-october-2012-a-295477/
http://www.pakistanherald.com/Program/Islamabad-Tonight-October-30-2012-Nadeem-Malik-12288

ISLAMABAD TONIGHT

WITH NADEEM MALIK

30-OCT-2012

TOPIC- BALOCHISTAN & KARACHI SITUATION

GUESTS- JUSTICE TARIQ MAHMOOD, JUSTICE SAEED- U-ZAMAN SIDDIQI, SALMAN AKRAM RAJA

JUSTICE (R) TARIQ MAHMOOD said that SC has used the words of “constitutional breakdown” in its decision for Balochistan situation. He said that the problem of Balochistan is political and can not be resolved without the participation of Baloch people. He said that why the SC is taking decisions on Balochistan instead of the government paying attention to this problem. He said that Balochistan has received 1.7 billion rupees by the federal government but there is no change in the lives of the people.

He said that it is the duty of the police to fix the problem of Karachi but it should be depoliticized first. He said that MQM, ANP and PPPP have to make the decision to not to interfere in the police affairs in Karachi. He said that if all three political parties are serious to resolve the problem they should depoliticize the Karachi police. He said that new elections are the only solution of the problem of the country but people should be given the right of voting without any fear.

JUSTICE (R) SAEED-U-ZAMAN SIDDIQI said that if there would have been a true democratic government in Pakistan it was going to dissolve Balochistan assembly after the decision of SC. He said that the government can call the military to assist civil administration but there seems to be no possibility. He said that 61 members out of 62 of Balochistan assembly are the ministers what kind of administration is this. He said that it is very unfortunate that the problems which were supposed to be resolved in the parliament are dealt in the SC. He said that because of the boycott of the elections by the nationalists the Balochistan members of assembly got about two thousand votes to succeed.

He said that a police that is consisted of thirty to forty percent of political appointees can not resolve the problems of the Karachi. He said that the traders of the Karachi are going to protest against the crimes being committed against them. He said that there is no comprehensive solution in the current situation than the fresh elections in the country.

SALMAN AKRAM RAJA A LAWYER said that federal and provincial governments along with FC are responsible for the chaotic situation in Balochistan. He said that if the government will not take the notice of Balochistan situation the SC can order to act. He said that the missing persons are the real problem of Balochistan and is main cause of restlessness. He said that new elections are the solution of the Balochistan problem and every party should take part in it. He said that the situation of Balochistan and Karachi are two very different from each other. He said that in Karachi rival groups are fighting against each other.

He said that the use of the military to correct the situation of Karachi should be decided after deep consideration.

30 October, 2012 21:13


ISLAMABAD TONIGHT

WITH NADEEM MALIK

30-OCT-2012

سپریم کورٹ نے بلوچستان کی صورت حال کے بارے میں آئینی بریک ڈاؤن کے الفاظ استعمال کئیے ہیں۔ جسٹس طارق محمود کی اسلام آباد ٹونائٹ میں گفتگو

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور یہ بلوچوں کو شامل کئیے بغیر حل نہیں ہو گا۔ طارق محمود

پاکستان میں واقعی جمہوری حکومت ہوتی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان اسمبلی کو برخاست کر دیتی۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی

حکومت سول انتظامیہ کی مدد کے لئیے فوج طلب کر سکتی ہے لیکن اس کا امکان نہیں ہے۔ سیعد الزمان صدیقی

بلوچستان کی صورت حال کے وفاقی، صوبائی حکومتیں اور ایف سی والے زمہ دار ہیں۔ سلمان اکرم راجہ

حکومت بلوچستان کے حالات کا نوٹس نہیں لے گی تو سپریم کورٹ اسے عمل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ سلمان اکرم راجہ

اتنی نوبت کیوں آ رہی ہے کہ سپریم کورٹ بلوچستان کے فیصلے کر رہی ہے حکومت اپنا کردار کیوں ادا نہیں کر رہی۔ طارق محمود

بلوچستان کو ایک سو ستر ارب روپے دئیے گئے لیکن وہاں کو لوگوں کی حالت تبدیل نہیں ہوئی۔ طارق محمود

بلوچستان اسمبلی کے باسٹھ ارکان میں سے اکسٹھ وزیر ہیں یہ کیسی انتظامیہ ہے۔ سعید الزمان صدیقی

یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ جو مسائل پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہییں تھے وہ سپریم کورٹ میں حل ہو رہے ہیں۔ سعید الزمان صدیقی

بلوچستان کے نیشنلسٹ لیڈروں کے الیکشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے موجودہ ارکان اسمبلی دو دو ہزار ووٹ لے کر جیتے ہیں۔ سعید الزمان صدیقی

بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ مسنگ پرسنز کا ہے جس کی وجہ سے وہاں بہت زیادہ اضطراب ہے۔ سلمان اکرم راجہ

بلوچستان کے مسئلے کا اصل حل نئے الیکشن ہیں اور جن میں سب لوگ حصہ لیں۔ سلمان اکرم راجہ

بلوچستان اور کراچی کی صورت حال ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ سلمان اکرم راجہ

کراچی میں متحارب گروپس ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ

کراچی کے حالات ٹھیک کرنا پولیس کا کام ہے لیکن اسے سیاست سے پاک کرنا ہو گا۔ طارق محمود ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلز پارٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پولیس کا کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔ طارق محمود

کراچی پولیس جس کے تیس سے چالیس فیصد لوگوں کی تقرریاں سیاسی ہیں امن امان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ سعید الزمان صدیقی کراچی کی تاجر برادری اپنے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف دھرنا دینے جا رہی ہے۔ سعید الزمان صدیقی

کراچی کے حالات درست کرنے کے لئیے فوج کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ سلمان اکرم راجہ

اگر تینوں سیاسی پارٹیاں کراچی کے حالات درست کرنے میں سنجیدہ ہیں تو پولیس کو سیاست سے پاک کریں۔ طارق محمود

موجودہ حالات میں نئے الیکشن سے جامع کوئی حل نہیں ہے۔ سعید الزمان صدیقی

نئے الیکشن ہوں اور لوگوں کو بغیر کسی خوف کے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے۔ طارق محمود