11 August, 2015 23:50


NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

11-AUGUST-2015

قصور میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کے ساتھ جو ٹراما ہو چکا ہے زندگی بھر ان کے ساتھ یہ بات لگی رہے گی۔عارف علوی کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی پھر اس کی وڈیو بنی اور پھر اسے بلیک میلنگ کے لئیے استعمال کیا جاتا رہا۔ عارف علوی

زیادتی کے شکار بچوں کی تعداد آج تک سات ہے اگر کمشنر لاہور کے پاس ان کی تعداد زیادہ ہے تو سب کو سامنے لایں۔ رانا ثنا اللہ

آج بھی اگر کسی کو شکایت ہے تو سامنے آئے ہم ان کا مقدمہ درج کریں گے۔ رانا ثنا اللہ

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد چاہے کتنی بھی ہو لیکن ملزمان کا گروہ ایک ہی ہے۔ رانا ثنا اللہ

ملزمان کی تعداد نو ہے اور ان کی عمریں اٹھارہ سے بائیس سال کے درمیان ہیں۔ رنا ثنا اللہ

وڈیو میں جنسی زیادتی کرنے والے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو پہلے خود زیادتی کا نشانہ تھے۔ رانا ثنا اللہ

قصور کے واقع میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد جتنی ہے اتنی ہی رہنی چاہئیے اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے۔ رنا ثنا اللہ

قصور کے واقع میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔رانا ثنا اللہ

قصور کے واقع پر جے آئی ٹی بن چکی ہے نشانہ بننے والے بچوں اور ملزمان کی ٹھیک تعداد سامنے آ جائے گی۔ رانا ثنا اللہ

قصور کے واقع کی تحقیقات رانا ثنا اللہ کے بس کی بات نہیں ہے اس پر وزیراعلی کو انکوائری کمیٹی بنانا چائیے تھی۔ عارف علوی

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تشہیر نہیں کی جانی چاہئیے عارف علوی

دیکھنا ہو گا کہ قصور کے واقع کی جے آئی ٹی کا حال بھی ماڈل ٹاؤن جیسا نہ ہو۔ فردوس عاشق اعوان

قصور کے واقع میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں میں بچوں کے علاوہ بچیاں بھی شامل ہیں۔ فرزانہ باری

حکومت کو قصور کے واقع میں خود پارٹی بنے اس کے پاس وڈیوز کی شکل میں ثبوت موجود ہیں۔ فرزانہ باری

وڈیو کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں ہو سکتی جب تک وڈیو میں موجود شخص گواہی نہیں دے گا۔ رانا ثنا اللہ

قصور کے واقع میں بچوں کی تعداد کتنی تھی اس معاملہ میں نہیں پڑنا چاہئیے۔ عارف علوی

زیاتی کا شکار ہونے والے بچوں کی مدد کے لئیے نفسیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کی جانی چاہئییں۔ عارف علوی

قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقع میں حکومتی لوگ بھی زمہ دار ہیں۔ فردوس عاشق اعوان

جس طرح حکومت قصور کے واقع کو پیش کر رہی ہے مجھے اس کی بنائی ہوئی جے آئی ٹی پر اعتبار نہیں ہے۔ فرزانہ باری

جے آئی ٹی میں کچھ ایسے نام بھی شامل کئیے جایں جو قابل اعتبار ہوں۔ فرزانہ باری

ہر بات کا الزام حکومت پر رکھ دیا جاتا ہے دو ہزار چھ سے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا این جی اوز کہاں تھیں۔ رانا ثنا اللہ

قصور جیسے واقعات سے این جی اوز کا کام چلتا ہے اور یہ باہر سے ڈالر سمیٹتی ہیں۔ رانا ثنا اللہ

قصور کا واقع سول سوسائٹی کا نہیں ہے یہ حکومت کی زمہ داری ہے۔ عارف علوی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s