21 February, 2017 12:34


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

20-FEBRUARY-2017

چوہدری نثار وزیرداخلہ ہیں انہیں پاکستان کا وزیرداخلہ بننا چاہئیے کسی ایک علاقعے کا نہیں بننا چاہئیے۔ مولا بخش چانڈیو کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

چوہدری نثار جن کامیابیوں کا دعوی کرتے ہیں وہ کہاں ہیں دہشت گردی پورے ملک کا مسئلہ ہے کسی ایک صوبے کا نہیں ہے۔ مولا بخش چانڈیو

دہشت گردی صرف سندھ میں نہیں لاہور میں ہوئی ہے کے پی کے میں ہوئی ہے۔ مولا بخش ثانڈیو

دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے ہیں اور یہ وہیں سے اس کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔رانا ثنا اللہ

دہشت گردوں کا کوئی لوکل سہولت کار نہیں ہے سہولت کار اور خود کش بمبا ر دونوں باجوڑ ایجینسی سے آئے۔ رانا ثنا اللہ

ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رینجرز کو پنجاب میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دیتے جبکہ رینجرز پنجاب میں ضرورت کے تحت آپریشن کر رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ

پہلے رینجرز پولیس کی مدد کرتے تھے لیکن اب وہ خود بھی کاروائی کر سکیں گے۔ رانا ثنا اللہ

دیر آید درست آید آخر کار پنجاب حکومت نے رینجرز کو آپریشن کرنے کی اجازت دے دی۔ عارف علوی

تین مہینے پہلے میں سیہون شریف گیا تھا تو وہاں صرف تین سکیورٹی اہلکار تھے اور سکیورٹی گیٹ بھی کام نہیں کر رہے تھے۔عارف علوی
لاہور ہو یا سیہون شریف ہو لوکل سہولت کار کے بغیر دہشت گردی کے حملے ہو ہی نہیں سکتے۔ جنرل سعد خٹک

لوکل سہولت کار کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہے ان کے خلاف کاروائی ہوتی رہتی ہے۔ جنرل سعد خٹک

افغانستان کے پورے بارڈر کو بند کرنا ممکن نہیں ہے دہشت گرد کہیں سے بھی داخل ہو جاتے ہیں۔ جنرل سعد خٹک

دہشت گردی کے خلاف آپریشن چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر ہوا وزیراعظم کے حکم سے نہیں ہوا۔ مولا بخش چانڈیو

سندھ میں دہشت گردی ہو تو سندھ حکومت زمہ دار ہے پنجاب میں ہو تو صوبائی حکومت زمہ دار نہیں ہے۔ مولا بخش چانڈیو

دہشت گردی کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور الرٹ کر دیا جاتا ہے۔ رانا ثنا اللہ

لاہور میں دہشت گردی کا الرٹ تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ پنجاب اسمبلی کے سامنے ہو گا۔ رانا ثنا اللہ

پنجاب سندھ یا کے پی کے جہاں بھی دہشت گردی ہو سب کو ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے۔ رانا ثنا اللہ

دہشت گردی کے خلاف اداروں کے کردار کی تعریف کرتے ہیں لیکن جو کمزوریاں ہیں ان پر تنقید کریں گے۔ عارف علوی

افغانستان کے اندر کاروائی کرنے میں ہمیں وہاں کی حکومت کا تعاون حاصل کرنا چاہئیے۔ عارف علوی

اگر داعش اور آئی ایس آئی ایس افغانستان میں موجود ہیں تو وہ ان کے لئیے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے کہ ہمارے لئیے ہیں۔ جنرل سعد خٹک

پاکستان کے لئیے افغانستان کے اندر جا کر حملہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس کے اپنے اثرات ہوں گے۔ جنرل سعد خٹک

افغانستان کے اندر پاکستان کو وہاں کی حکوت اور امریکہ کے ساتھ مل کر کاروائی کرنی چاہئیے ورنہ اس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔ جنرل سعد خٹک

ملٹری کورٹس عارضی طور پر مسئلے کا حل ہیں لیکن ان کے فیصلوں پر فوری عمل ہونا چاہئیے مقدمات اپیل میں نہیں پڑے رہنے چاہئییں۔ رانا ثنا اللہ

فیس لیس کورٹس بننی چاہئییں اور پنجاب میں اس پر کام بھی ہو رہا ہے۔ رانا ثنا اللہ

جب تک ملٹری کورٹس ہیں اس دوران میں جیوڈیشل ریفارمز پر عمل ہونا چاہئیے۔ رانا ثنا اللہ

ہم جیوڈیشل سسٹم کے حامی ہیں پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کی مجبوری کی وجہ سے ملٹری کورٹس کے فیصلے کی حمایت کی۔ مولا بخش چانڈیو

اگر مسلم لیگ ن کی حکوت علاقعائی سوچ سے اوپر اٹھ کو قومی مفاد میں فیصلے کرے گی تو وہ قوم کو قابل بول ہوں گے۔ مولا بخش چانڈیو

نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئیے اور اس پر اب تک کتنا عمل ہوا ہے اس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنی چاہئیے۔ عارف علوی

ملٹری کورٹس کے فیصلے وزارت داخلہ کے پاس پڑے ہوئے ہیں ان پر عمل نہیں ہو رہا سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل سعد خٹک

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s