22 June, 2017 23:12


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

22-JUNE-2017

کلبھوشن یادیو نے نہ صرف اپنے جرائم کا اقرار کیا ہے بلکہ ثبوت بھی فراہم کئیے ہیں۔زعیم قادری کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

دنیا کو پیغام جانا چاہئیے کہ بھارت اربوں روپے خرچ کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کروا رہا ہے۔

جے آئی ٹی کے اعتراضات اپنی جگہ لیکن ہمارے بھی کچھ تحفظات ہیں۔

پی ٹی آئی سے فارن فنڈنگ کی دستاویزات مانگی گئی ہیں جو انہوں نے ابھی تک فراہم نہیں کیں۔

یہودی لابی اپنی فنڈنگ سے عمران خان کے زریعے نواز شریف کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے کہا کہ

کلبھوشن یادیو جیسے دہشت گردوں کو معافی نہیں ملنی چاہئیے بلکہ اس کے سہولت کاروں کو بھی پکڑا جانا چاہئیے۔

کلبھوشن یادیو کے کچھ ساتھی بلوچستان حکومت میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے گورنر کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نے را سے پیسے لئیے ہیں۔

جے آئی ٹی اپنی تحقیقات سو فیصد مکمل کر چکی ہے اسے اپنے سوالات پر کسی نے کچھ جواب ہی نہیں دیا ہے۔

حکومت کے پاس قطری شہزادے کے خط کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ اس دفعہ بیٹسمین بھی جائے گا اور باؤلر بھی جائے گا۔

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے بعد نواز شریف وزیر اعظم رہے گا اور نہ عمران خان بنے گا کوئی نیا چہرہ آئے گا۔

پاکستان میں سب کا احتساب ہو گا جھاڑو پھرے گا۔

پی ٹی آئی کے عمران اسماعیل نے کہا کہ

کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے کے مسئلے پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔

کلبھوشن نے بیگناہ پاکستانیوں کو مروایا ہے اس سے رعایت نہیں ہو سکتی۔

شروع سے پتہ تھا کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے جے آئی ٹی اپنا کام نہیں کر سکے گی۔

نواز شریف کی کرپشن کے بارے میں بات کریں تو کہتے ہیں کہ ملک کی ترقی کا پہیہ رکوانا چاہتے ہیں۔

ایک فنڈ ریزنگ ڈنر میں ایک شخص نے پانچ سو ڈالر کا ایک چیک دیا تھا جو ایک یہودی فرم کے لئیے کام کرتا تھا اسے فارن فنڈنگ کہہ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابقہ صدر سید علی ظفر نے کہا کہ

بھارت کلبھوشن کے مسئلے پر پوری تیاری سے عالمی عدالت میں گیا پاکستان سرپرائز ہو گیا تھا۔

پاکستان کو کس طرح کلبھوشن کا کیس لڑنا چاہئیے اس پر ابھی تک قانونی ماہریں سے مشورہ نہیں کیا گیا۔

عالمی عدالت کا فیصلہ آ گیا تو یہ مسئلہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا پھر ہم اسے اپنے مقامی قوانین کے تحت سزا نہیں دے سکیں گے۔

پاناما کیس دنیا کی سپریم کورٹس کی تاریخ کا ایک انوکھا کیس ہے اس میں عدالت نے ساری زمہ داری خود پر لے لی ہے۔

جے آئی ٹی سپریم کورٹ ہی کی ایک برانچ ہے حکومت اور سپریم کورٹ کا ٹکراو صورت حال خراب کر سکتا ہے۔

پاناما کی خبر لیک ہوئی تو میں نے اسی وقت کہا تھا کہ اس کیس کو ہم احتساب کے لئیے اپنا سٹارٹنگ پوائنٹ بنا سکتے ہیں۔

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s