4 August, 2017 10:40


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

03-AUGUST-2017

میری گلالئی کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی مجھے افسوس ہے کہ میرے متعلق کہا جا رہا ہے کہ میں اس سے ملا ہوں۔ امیر مقام کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

میری گلالئی سے فون پر اس وقت بات ہوئی جب اس نے پی ٹٰی آئی چھوڑ دی اور عمران خان پر چارج شیٹ لگائی۔

مجھ پر الزامات لگا رہے ہیں کہ ہم کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا رہے ہیں ان کی حکومت خود گر رہی ہے۔

ہم چاہیں تو ایک ہفتے میں کے پی کے حکومت کو گرا سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ

اگر امیر مقام ہماری کے پی کے کی حکومت گرا سکتے ہیں تو ایک لمحہ تاخیر نہ کریں گرا دیں۔

مجھے گلالئی کے الزامات سے صدمہ پہنچا انہیں سیٹ پی ٹی آئی نے دی تھی وہ چھوڑ دیں۔

خرم دستگیر مانیں یا نہیں مانیں چوہدری نثار نے وزیر بننے سے انکار کر دیا ہے۔

اسحق ڈار نے بھی کہا ہے کہ ان پر نیب کے مقدمات ہیں وہ وزیر نہیں بنیں گے۔

مسلم لیگ ن کا ایک طبقہ کہہ رہا ہے کہ اگر پارٹی کو بچانا ہے تو شہباز شریف کو اوپر لایں۔

مسلم لیگ ن کی کابینہ میں شامل ہونے کے لئیے لوگ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ ن کی کابینہ میں ضرور شامل ہوں گے۔

نواز شریف کس حٰثیت سے پارٹی میٹنگ کی صدارت کرتے ہیں وہ قانوناْ ایسا نہیں کر سکتے۔

شاہد خاقان عباسی نواز شریف کو سامنے جی حضوری کیوں کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن اتنی بڑی جماعت ہے کیا یہ شریف خاندان سے باہر نہیں نکل سکتے۔

کیا ضروری ہے کہ نواز شریف کے بعد شہباز شریف اور شہباز شریف کے بعد حمزہ شہباز ہوں۔

مشرف کا کہنا کہ ڈکٹیٹروں کے دور میں ترقی ہوئی سول دور میں نہیں ہوئی درست بات نہیں ہے۔

اگر مشرف کی بات درست ہے تو پھر مغرب میں اتنی ترقی کس طرح سے ہوئی۔

ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ این آر او کرنے سے نقصان ہوا۔

نواز شریف بتایں انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کی کابینہ کے لوگوں کو اپنی کابینہ میں کیوں شامل کیا۔

میں پی ٹی آئی کی طرف سئ خرم دستگیر کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کبھی کسی ڈکٹیٹر کا ساتھ نہیں دیں گے۔

مسلم لیگ ن بھی وعدہ کرے کہ آئندہ نواز شریف کسی ڈکٹیٹر کے ساتھ معاہدہ کر دس سال کے لئیے جدہ نہیں جایں گے۔

پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ

اگر عمران خان کے بلیک بیری میں میسیجز کا ثبوت مل جاتا ہے تو پھر تحقیقات ہونی چاہئییں۔

میں نے کہا تھا کہ حکومت کو ڈیڑھ مہینے کے لئیے وزیراعظم نہیں لانا چاہئیے۔

مسلم لیگ ن کی کابینہ میں کون کون لوگ شامل ہوں گے اس کا فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔

کچھ قوتیں جتنی تیزی سے نواز شریف کا نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں وہ اتنی ہی تیزی سے متحرک ہو رہے ہیں۔

ڈکٹیٹروں نے ملک کو کئی قسم کی جنگوں میں دھکیلا دہشت گردی کی جنگ میں بھی ملک کو ڈکٹیٹروں نے ہی دھکیلا۔

مسلم لیگ ن کے خرم دستگیر نے کہا کہ

کوئی خاتون اپنے متعلق اس طرح کی بات نہیں کرتی جیسی گلالئی نے کی ہے۔

عمران خان بے قصور ہیں تو اپنا بلیک بیری دکھا دیں۔

شاہد خاقان عباسی جلد اپنی کابینہ مکمل کر لیں گے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

چوہدری نثار کابینہ میں شامل ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے۔

امید ہے کل قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے کابینہ حلف اٹھا لے گی۔

ایک بات چل رہی ہے کہ شہباز شریف کو اوپر آنا چاہئیے انہیں پنجاب میں ہی رہنا چاہئیے۔

نواز شریف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں وہ پاکستان کے شہری ہیں۔

گلالئی کے زاتی ملازم نور زمان نے کہا کہ

پچھلے تین مہینے سے گلالئی گورنرہاؤس میں گورنر کے پی کے اور امیر مقام سے ملاقاتیں کرتی رہی ہے۔

میں ساتھ ہوتا تھا اور گلالئی کہتی تھی جلدی کرو امیر مقام انتظار کر رہا ہے۔

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements