26 March, 2018 22:08


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

26-MARCH-2018

وزیراعظم کو سینٹ الیکشن میں پیسہ چلنے سے پاکستان کی دنیا میں بے عزتی کا خیال آیا بہت خوشی کی بات ہے۔ اسد عمر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ہم نے سینٹ الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ انتخابی اصلاحات کریں حکومت نے کیوں نہیں کیا۔

پنجاب سے کوئی جیسے مرضی جیتے تو ووٹ کی حرمت کا خیال رکنا چاہئیے لیکن بلوچستان سے جیتے تو ملک کی بدنامی ہو جاتی ہے۔

ہر دفعہ سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اس دفعہ بھی چلا جب تک چیرمین سینٹ کا الیکشن نہیں ہوا مسلم لیگ ن نہیں بولی اس کے بعد بولے۔

بلوچستان میں پرو پاکستان طاقتیں اکٹھی ہو رہی ہیں ہم نئی جماعت بننے کے عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

ملک میں جیوڈیشل مارشل لا لگانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ایسا ہونا چاہئیے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چیف جسٹس جمہوری عمل میں دخل دے رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

اگر چیف جسٹس بھی عوام کے مسائل کی بات نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔

جمہوریت کو اگر خطرہ ہے تو صرف نواز شریف سے ہے۔

چیف جسٹس کو اس لئیے مارشل لا کے خلاف دینا پڑا کیونکہ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ فوج سازشی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے میرے ساتھ ایک پروگرام میں یہ بات کہی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کی حکومت گرائی ہے۔

پیپلز پارٹی کے محمد نواز کھوکھر نے کہا کہ

چھانگا مانگا میں جو کچھ ہوا تھا کیا وہ ملک کی بدنامی نہیں تھی۔

اگر وزیراعظم کے پاس سینٹ الیکشن میں پیسہ چلنے کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لے کر آیں۔

مسلم لیگ ن میں توڑ پھوڑ شروع ہو چکی ہے۔

مسلم لیگ ن کے کتنے ایم این ایز ہیں جن کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت تھی؟

جس دن سے پاناما کا کیس آیا ہے مسلم لیگ ن والے عدالت پر حملے کر رہے ہیں۔

اگر کسی نے توہین عدالت کی ہے تو اسے ضرور سزا ہونی چاہئیے۔

مسلم لیگ ن کے زعیم قادری نے کہا کہ

پیپلز پارٹی کے اپنے لوگوں نے کہا ہے کہ انہوں نے پیسہ لے کر سینٹ کے لئیے ووٹ دئیے۔

سینٹ کا چیرمین نہ جمہوری طریقے سے اور نہ قانونی طریقے سے منتخب ہوا ہے۔

کاکڑ صاحب نے فوتگی کا اظہار کیا ہے یہ فوتگی نہیں تھی قتل تھا اور کاکڑ صاحب بھی اس میں شامل ہیں۔

بلوچستان میں مسلم لیگ ن کا قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔

بلوچستان میں جو نئی جماعت بنے گی اس میں بھی الیٹ کلاس ہی شامل ہو گی۔

چیف جسٹس کا اعلان کہ وہ مارشل لا نہیں آنے دیں گے بہت عمدہ بیان ہے۔

سینٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ

ہمارے ملک میں ایک سیاسی فوتگی ہو چکی ہے انہیں دکھ سنجرانی کا نہیں فوتگی کا ہے۔

سنجرانی کو لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اس میں کون سی غیر جمہوری بات ہے۔

ہم دو تین دن میں ایک نئی جماعت کا اعلان کریں گے۔

ہم لوگوں کو بلا کر پارٹی سربراہان منتخب کریں گے ہمارا طریقہ جمہوری ہو گا۔

یہ درست ہے کہ بلوچستان میں بننے والی ہماری نئی جماعت کو بھی وہاں کی الیٹ لیڈ کرے گی لیکن وہ ہمارے دکھ میں شامل ہوتی ہے۔

ہم نے مسلم لیگ ن کو نہیں چھوڑا مسلم لیگ ن نے ہمیں چھوڑا ہے۔

ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر پاکستان کے اداروں پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔

مسلم لیگ ن کے ایک سیاسی حلیف یہ برملا کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک پنجابی اور فوج کو آپس میں لڑا دیا ہے۔

http://naeemmalik.wordpress.com/