30 August, 2018 20:56


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

30-AUGUST-2018

جمعے کے دن بچہ باہر گیا کہ کے الیکٹرک کی تاریں اس پر گریں اور انہوں نے ہم سے معزرت بھی نہیں کی۔ والدہ عمر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ہمارے علاقعے میں ہر جگہ کے الیکٹرک کی تاریں لٹک رہی ہیں۔

کے الیکٹرک والوں نے کہا کہ وہ ہمیں کچھ پیسے دینا چاہتے ہیں لیکن میں نے کہا کہ مجھے نہیں چاہئییں۔ والد عمر

ہائی ٹینشن تاریں ہمارے محلے میں لٹک رہی ہیں اس سے پہلے بھی واقعات ہو چکے ہیں۔

بچوں کا سکول بھی یہیں ہے چھٹی تھی ورنہ بہت بڑا سانحہ ہو سکتا تھا۔

میں کے الیکٹرک کے خلاف ایف آئی آر درج کرواؤں گا۔

میں نے کے الیکٹرک سے کہا ہے کہ میرا بچہ معزور ہو گیا اس پڑھائی کے اور دوسرے اخراجات اٹھایں۔

میں نے عمران خان کو ای میل کی تھی مجھے اس کا جواب نہیں آیا کم از کم مجھے اس کا جواب تو دیا جائے۔

پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے کہا کہ

عمر کا مسئلہ سیاسی نہیں ہے میں عمران خان سے بات کروں گا کہ اس بچے کے لئیے کچھ کیا جائے۔

مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی اور بلاول بھی اس کام میں تعاون کریں گے۔

عمران خان کا جی ایچ کیو کا دورہ بہت اچھا تھا ہم مل کر چل سکتے ہیں کچھ وقت ضرور لگے گا۔

پاکستان ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے اپنی فوج سے بریفنگ لے کر حکومت پالیسی بنا سکتی ہے۔

امریکہ پتہ نہیں کس قسم کا دوست ہے مطلب نکال کر نکل جاتا ہے۔

ہمیں ایک لانگ ٹرم پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ میں سٹینڈنگ کمیٹیز اصل کام کرتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ

میں سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کا چیرمین ہوں میں کے الیکٹرک کے چیرمین کو بلاؤں گا اور ان سے بات کروں گا۔

میں وزیراعلی سندھ سے بھی بات کروں گا اور اس بچے کی مدد کی جائے گی۔

پاکستان کو خارجہ پالیسی بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر بنانی چاہئیے۔

سلالہ کا معاملہ ہم پارلیمنٹ میں لے کر گئے اور پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔

آرمی چیف سے خارجہ پالیسی پر رائے لینی چاہئیے ان کا اپنا ایک پوائنٹ آف ویو ہوتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر مصدق نے کہا کہ

پاکستان میں زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے اور غریب آدمی کی زندگی کی قیمت تو بالکل نہیں ہے۔

الیکٹرک کمپنیوں میں کام کرنے والوں کے پاس دستانے نہیں ہوتے اور سکیورٹی کے اقدامات نہیں کئیے جاتے۔

کے الیکٹرک نے بجلی پیدا کرنے اور اس کا انفرا سٹرکچر درست کرنے کے کچھ وعدے کئیے تھے ان پر عمل کروایا جائے۔

عمران خان کی طبیعت میں سختی ہے اس کا اظہار ہوا تو فوج کے ساتھ معاملات خراب بھی ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کو آگے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا خادم رضوی صاحب نے بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ ہالینڈ کے سفیر کو ملک سے نکالیں۔+

خارجہ پالیسی میں ہم جب اپنا بیانیہ دے دیتے ہیں تو پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے بیانیہ نفرت انگیز نہیں ہونا چاہئیے۔

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s