25 September, 2018 21:01


NADEEM MALIK LIVE

www.humnews.tv/videos/NadeemMalik

25-SEPTEMBER-2018

فائرنگ کے بعد جب گولی چلی تو ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ گولی ہماری بیٹی کو لگی ہے یہ نہیں پتہ

تھا کہ کہاں لگی ہے۔ والد امل عمر عادل اور والدہ بینش کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ہم نے ایمبولینس کے لئیے فون کیا لیکن کسی نے ایمبولینس نہیں بھیجی ہسپتال والوں نے کہا کہ ایمبولینس آ رہی ہے آپ انتظار کریں۔

ہسپتال والوں نے کہا کہ بچی کو کسی دوسرے ہسپتال لے جایں یہاں علاج ممکن نہیں ہے۔

ہم نے کہا کہ اگر ہم بچی کو دوسرے ہسپتال لے کر جایں تو آپ میں سے کون ہمارے ساتھ جائے گا تو جواب ملا کہ کوئی نہیں جائے گا۔

ہسپتال والوں نے کہا کہ جب آپ بچی کو لے کر دوسرے ہسپتال لے کر جایں گے تو اپنی ہم آکسیجن بھی اتار لیں گے۔

ڈاکو پولیس سے پانچ فٹ کے فاصلے پر تھا جبکہ ہماری گاڑی پچاس فٹ کے فاصلے پر تھی۔

پولیس والوں نے کہا کہ جس پولیس والے نے گولی چلائی اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں سسٹم کو ٹھیک کریں تا کہ کسی اور کی بچی کی جان نہ جائے۔

چیف جسٹس کے نوٹس لینے کے بعد میڈیا اور ہر کوئی ہماری بچی کی بات کر رہا ہے لیکن اصل بات یہ ہے زمہ داروں کو سزا دی جائے۔

پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے کہا کہ

بہت افسوس کی بات ہے کہ بچی فوت ہوئی ہے لیکن جس طرح کا سلوک کیا گیا ہے وہ اور بھی بہت زیادہ افسوسناک ہے۔

چیف جسٹس نے کیونکہ نوٹس لے لیا ہے اس لئیے میں اس پر مزید بات نہیں کروں گا۔

جب بہت بری حالت میں کوئی مریض آتا ہے تو ہسپتال کا پہلا کام اس کی جان بچانا ہونا چاہئیے۔

ہمارے ملک میں روایت رہی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیرمین بنایا جاتا ہے۔

ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب ہم نے الیکشن میں دھاندلی کی بات کی تو ہمیں کنٹینر پر چڑھنا پڑا اور بہت مشکلات سے گزرنا پڑا۔

ہماری حکومت نے پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں الیکشن میں دھاندلی پر کمشن بنانے کا اعلان کیا۔

کمیٹی کا چیرمین حکومت کا بندہ ہو گا اور اس میں سب کے برابر کے ارکان ہوں گے۔

مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی کمیٹی پر اپنی رضا مندی ظاہر کر چکی ہے۔+

میری حلقے میں دوبارہ گنتی کروائی گئی پانچ دن گنتی ہوتی رہی میرے سو کے قریب ووٹ کم ہوئے۔

ہمیں الیکشن کی اصلاحات کرنی چاہئیے ورنہ دھاندلی کی شکایات پیدا ہوتی رہیں گی۔

ہمیں معاملات کو آگے لے کر جانا چاہئیے جیتنے والا بھی خوش ہو اور ہارنے والا بھی نتیجے کو مانے۔

مسلم لیگ ن کے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ

ہسپتال والوں کا رویہ بچی کے والدین کے ساتھ بہت افسوسناک تھا۔

پولیس والے کو کیا کسی نے نہیں بتایا کہ اتنے رش میں اس طرح گولی نہیں چلائی جاتی۔

جس پولیس والے نے گولی چلائی اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیے۔

بچی کے والدین کی بڑی ہمت ہے جس طرح انہوں نے اپنی بچی کے موت پر بات کی ہے۔

امل کے والدین کو معاوضہ ملنا چاہئیے چاہے وہ وہ پیسہ کسی ادارے کو دے دیں۔

شہباز شریف کا تجربہ بھی ہے اور روایت بھی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیرمین لگایا جاتا ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ ؔصرف آر ٹی ایس کی ناکامی پر تحقیقات نہیں ہونی چاہئیے پری پول رگنگ پر بھی بات ہونی چاہئیے۔

جو لوگ ہمارے ساتھ کام کرتے تھے ان کو دھمکیاں دی جاتی تھیں۔

الیکشن نگران حکومت نے نہیں زیر نگرانی حکومت نے کروائے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو نے کہا

ہسپتال والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئیے بچی کے والدین کبھی اس واقع کو بھول نہیں پایں گے۔

ہمارے لوگوں کو اور اداروں کو کچھ اخلاقی زمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔

ہسپتال والوں کو بچی کی جان بچانے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی۔

بعض قوانین آسانی کی بجائے مشکلات پیدا کرنے کے لئیے بنے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو اپوزیشن لیڈر کو پبلک کمیٹی کا چیرمین لگایا۔

الیکشن میں دھاندلی پر جو پارلیمانی کمیٹی بنائی ہے اس میں سینٹ کا کوئی رکن شامل نہیں ہے۔

بلاول بھٹو کے حلقے میں چیف پولنگ ایجنٹ کو پولنگ سٹیشن میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s