22 January, 2020 21:03


NADEEM MALIK LIVE

https://www.samaa.tv/live/

22-01-2020

https://www.youtube.com/nadeemmaliklive

ہمارا بلوچستان کے وزیراعلی پر اعتماد اٹھ چکا ہے۔ عبدالقدوس بزنجو کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

بلوچستان عوامی پارٹی ایک عوامی جماعت بنائی گئی تھی لیکن یہ عوامی نہیں رہی۔

وزیراعلی کے آفس میں ایک سال سے نہیں گیا ان کے خلاف بغاوت شروع ہو چکی ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر سے تبدیلی آئے ورنہ پھر ہم کوئی اور قدم اٹھایں گے۔

پارٹی کے اندر سے تبدیلی نہیں آئی تو پھر دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر ایم پی ایز کا ایک گروپ بنایں گے۔

وزیراعلی بلوچستان نے مجھے کہا کہ آپ گورنر بن جایں ورنہ مجھے مشکلات پیش آیں گی۔

میں نے انہیں کہا کہ میں گورنر نہیں بنوں گا۔

اپوزیشن کے پچیس کے قریب ممبران ہیں وہ سب میرے ساتھ ہیں میرے لئیے حکومت بنانا مشکل نہیں ہو گا۔

بلوچستان میں ایک ماہ کے اندر تبدیلی آ جانی چاہئیے ورنہ حالات بگڑ جایں گے۔

شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ پاکستان

امریکہ سے کشمیر کی صورت حال پر مفصل گفتگو ہوئی ہے وہاں لوگوں کی زندگی دو بھر ہو چکی ہے۔

پورے بھارت میں اس وقت احتجاج کی کیفیت ہے طلبا باہر آ چکے ہیں۔

بھارت کی گروتھ آدھی ہو چکی ہے پاکستان کو خدشہ ہے کہ وہ کشمیر میں کوئی گڑ بڑ کر کے پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ اس نے خاطر خواہ کوشش کی ہے ایف اے ٹی ایف پر امریکہ کو ہمارا ساتھ دینا چاہئیے۔

ہمیں امریکہ ایف اے ٹی ایف پر ساتھ دیتا دکھائی نہیں دے رہا اس کو جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔

میں نے ٹرمپ کو کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ایف اے ٹی ایف پر پاکستان کی مدد کی جائے لیکن ابھی تک کوئی مدد نہیں ملی۔

امریکی صدر نے سکیورٹی ایڈوائزر اور سیکریؔٹری ٹریژری کو واضع طور پر کہا کہ پاکستان کی مدد کی جائے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

امریکہ اب بھی کشمیر پر ثالثی کے لئیے تیار ہے۔

افغانستان کے اندر اور باہر کچھ ایسی قوتیں بیٹھی ہوئی ہیں جو نہیں چاہتی کہ امن کا عمل آگے بڑھے۔

طالبان کے ساتھ امریک کا جتنی جلدی معاہدہ ہو جائے اچھا ہے ورنہ مشکلات بڑھتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔

خورشید محمود قصوری سابق وزیر خارجہ

امریکہ بار بار کہہ رہا ہے کہ وہ کشمیر پر ثالثی کرے گا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا یہی ایک حل ہے۔

پاکستان کی امریکہ کے ساتھ میٹنگ بہت اچھی رہی ہے پاکستان نے ساری باتیں کہہ دی ہیں۔

کشمیری اپنی جدو جہد اس مقام پر لے آئے ہیں کہ جہاں اب وہ کوئی اور بات نہیں مانیں گے۔

Watch full program on our YouTube

https://www.youtube.com/nadeemmaliklive

22 January, 2020 10:56


image.png

https://www.youtube.com/results?search_query=nadeem+malik+live
http://siasatkorner.com/threads/nadeem-malik-live-21st-january-2020.425144/

NADEEM MALIK LIVE

https://www.samaa.tv/live/

21-01-2020

https://www.youtube.com/nadeemmaliklive

TOPIC- PAKISTAN POLITICS

GUESTS- SHAHAB U DIN, GHAZANFAR ABBAS, MOHAMMAD MAMOON TARARR, MOHAMMAD ALI RAZA KHAKWANI, MOHAMMAD ZUBAIR, ANDLEEB ABBAS

SHAHAB U DIN OF PTI said that the congregation of twenty MPA’s is called the supremacy of the parliament group. He said that not a single penny has been spent on the development of their constituencies in last ten years. He said that the congregation is not upset with the PM or the CM they are going to stay in PTI. He said that beaurocracy is ruling on the CM office they want to see it get strengthened. He said that one bad officer cannot be good just transferring him to some other place.

GHAZANFAR ABBAS OF PTI said that they were ten to twelve people in their first meeting and they also had meeting with the CM on their demands. He said that they are not the forward block of PTI they should be called like minded. He said that their group wants development program in their constituencies and they are promised for it as well.

He said that they will like to see the CM having powers. He said that strong CM can deliver in Punjab.

MOHAMMAD MAMOON TARARR OF PTI said that his group has no problem with the CM and Imran Khan is their leader. He said that the members of their congregation arte friends they have family terms and want the supremacy of the parliament. He said that beaurocracy has established the impression like the politicians are the curse. He said that problem is not the CM neither the PM the beaurocracy that was serving during the government of PML-N is still in charge.

MOHAMMAD ALI RAZA KHAKWANI OF PTI said that his congregation is loyal to PTI, the CM and the PM. He said that his group is faithful to the CM of Punjab because he is the choice of the PM. He said that no development work is being done in their constituencies they have to face their voters.

He said that the MPA’s of PML-N were complainant of Shahbaz Sharif for not giving them time of meeting but Usman Buzdar listen their problems. He said that now beaurocracy do not let them go to see the CM. He said that PTI government is harvesting that was sew by PML-N.

MOHAMMAD ZUBAIR OF PML-N said that nobody in PTI knew Usman Buzdar till Imran Khan elected him as the CM of Punjab. He said that Usman Buzdar had no experience that is why he is being criticized. He said that someone cannot be appointed as the CM just because he belongs to backward area.

He said that ECC decided to export the wheat and Asad Umer was heading it. He said that Jahangir is behind every crisis Asad Umer demanded investigations of the sugar crisis because Jahangir Tareen was behind it.

ANDLEEB ABBAS OF PTI said that PTI government should be compare with the first year of the previous governments. She said that inflation in the first year of PPPP was twenty four percent and ten in PML-N. He said that Pervez Khattak was also criticized for the first three years and in fourth year people started talking about his good performance.

She said that changing five IG’s in Punjab is not the bad thing it shows that whoever will not work will be transferred.

She said that the reason of flour crisis in Sindh is because PPPP government did not take the quota of the wheat on time.

Watch full program on our YouTube

https://www.youtube.com/nadeemmaliklive

21 January, 2020 20:58


NADEEM MALIK LIVE

https://www.samaa.tv/live/

21-01-2020

https://www.youtube.com/nadeemmaliklive

ہم نے اپنے گروپ کو سپرمیسی آف پارلیمانی گروپ کا نام دیا ہے۔ شہاب الدین کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ہمارے حلقے میں پچھلے دس سال سے ایک پینی بھی خرچ نہیں کی گئی۔

ہم وزیراعلی یا وزیراعظم سے نالاں نہیں ہیں ہم نے پی ٹی آئی میں ہی رہنا ہے۔

وزیراعلی ہاؤس کو بیوروکریسی رول کر رہی ہے ہم اسے کو بھی مظبوط کرنا چاہتے ہیں۔

ایک برا افسر کسی دوسری جگہ لگا دیا جائے تو وہ اچھا نہیں ہو جاتا۔

غضنفر عباس پی ٹی آئی

ہمارے پہلے اجلاس میں دس بارہ لوگ تھے اور ہماری وزیراعلی سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔

ہم فارورڈ بلاک نہیں ہیں ہمیں ہم خیال گروپ لکھ دیں تو بہتر ہو گا۔

ہم اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام چاہتے ہیں اور ہمیں اس کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

ہم گھما پھرا کر بات نہیں کریں گے وزیراعلی کو با اختیار ہونا چاہئیے۔

آٹے کا بحران ہوا ہے تو چیف سیکریٹری کو بلا کو پوچھیں کہ یہ کیوں پیدا ہوا ہے۔

اگر وزیراعلی مظبوط ہو گا تو وہ پنجاب میں ڈلیور کر سکے گا۔

محمد مامون تارڑ پی ٹٰی آئی

ہمارا وزیراعلی پنجاب کے ساتھ کوئی اشو نہیں ہے عمران خان ہمارے لیڈر ہیں۔

ہم سب دوست ہیں ہمارے خاندانی تعلقات ہیں ہم پارلیمنٹ کی بالا دستی چاہتے ہیں۔

بیوروکریسی نے ایک تاثر پیدا کر دیا ہے کہ سیاست دان کوئی گالی ہیں۔

مسئلہ نہ وزیراعلی ہیں نہ عمران خان ہیں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو مسلم لیگ ن کے ساتھ اٹیچ تھے اب بھی وہی کام کر رہے ہیں۔

محمد علی رضا خاکوانی پی ٹی آئی

ہم پی ٹی آئی کا حصہ ہیں عمران خان کے ساتھ ہیں اور وزیراعلی کے بھی ساتھ ہیں کیونکہ وہ خان صاحب کی چوائس ہیں۔

ہمارے حلقے میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے ہم نے کل کو اپنے حلقے کے لوگوں کا سامنا بھی کرنا ہے۔

پچھلے دور میں مسلم لیگ ن والے روتے رہتے تھے کہ شہباز شریف ان کی بات نہیں سنتے جبکہ بزدار صاحب بات سنتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بات سنی جائے لیکن اب کچھ ایسی بیوروکریسی آ گئی ہے کہ ہماری بات نہیں سنی جا رہی۔

یہ مسلم لیگ ن کا بویا ہوا ہے جو ہم کاٹ رہے ہیں ہمیں تو ابھی ایک سال ہوا ہے حکومت میں آئے ہوئے۔

محمد زبیر مسلم لیگ ن

جب تک عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیراعلی نہیں لگا دیا انہیں پی ٹی آئی میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا۔

عثمان بزدار کا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لئیے تنقید کی جا رہی ہے۔

کسی کو صرف اس لئیے وزیراعلی نہیں لگایا جا سکتا کہ اس کا تعلق پسماندہ علاقعے سے ہے۔

گندم برآمد کرنے کا فیصلہ ای سی سی نے کیا تھا جس کے سربراہ اسد عمر تھے۔

ہر بحران کے پیچھے جہانگیر ترین ہوتا ہے اسد عمر نے کہا تھا کہ چینی کے بحران کی تحقیات کروایں اس کے پیچھے بھی وہی تھے۔

عنددلیب عباس پی ٹی آئی

ہماری حکومت کا موازنہ پچھلی حکومتوں کے پہلے سال سے کریں پیپلز پارٹی کے پہلے سال میں مہنگائی چوبیس فیصد جبکہ مسلم لیگ ن میں دس فیصد تھی۔

پہلے تین سال پرویز خٹک کی کرکردگی پر تنقید کی جاتی تھی چوتھے سال کہنا شروع ہوئے کہ کام ہو رہا ہے۔

پانچ آئی جی بدلنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی خرابی ہے یہ تو کریڈٹ کی بات ہے جو کام نہیں کرتا اس کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

سندھ حکومت نے گندم نہیں اٹھائی جس کی وجہ سے وہاں آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے۔

Watch full program on our YouTube

https://www.youtube.com/nadeemmaliklive